اہم خبریں

منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلشینز کی بین المذاہب دعائیہ تقریب

منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلیشنز، مینارٹی رائٹس واچ، آئی پی ایس ایس اور ’’ساتھ پاکستان‘‘ کے زیراہتمام سانحہ لاہور، پشاور، سیہون شریف اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں شہید اور زخمی ہونے والے بیگناہ معصوم شہریوں کی یاد میں 25 فروری 2017ء کو مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں بین المذاہب دعائیہ تقریب ہوئی۔ دعائیہ تقریب میں مسلم، مسیحی، ہندو اور سکھ مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کر کے پوری دنیا کو بین المذاہب رواداری، ہم اہنگی اور قیام امن کا پیغام دیا۔ اس موقع پر دہشتگردی کے سانحات میں شہید ہونیوالوں کی یاد میں اور امن کی شمعیں روشن کی گئیں اور ان کے ورثاء سے اظہار تعزیت و یکجہتی کیا گیا۔

دعائیہ تقریب کی صدارت سیکرٹری جنرل عوامی تحریک خرم نواز گنڈا پور نے کی۔ تقریب کے معزز مہمانوں میں سکھ رہنما سردار بشن سنگھ جسوندر سنگھ، مسیحی رہنماء ریورنڈ سیموئیل نواب (سینٹ پال چرچ لاہور)، پاسٹر امجد نیامت، پاسٹر سائرس، ریورنڈ فراز، ہندو رہنماء پنڈت امر ناتھ رندھاوا، ارون کمار، ہارون ندیم، سیدہ ادیب اور کاشف نواب شامل تھے۔ مرکزی سیکرٹریٹ سے سید فرحت حسین شاہ، نصیر جان، منہاج القرآن ناروے کے سابق صدر افتخار، شہزاد رسول، طیب ضیاء بھی شامل تھے۔ تقریب کے میزبان منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلیشنز کے ڈائریکٹر سہیل احمد رضا تھے۔

دعائیہ تقریب کا آغاز قومی ترانہ سے کیا گیا، جس کے بعد قرآن مجید کی تلاوت حافظ شیر احمد برکاتی نے کی اور ترجمہ عرفان القرآن پیش کیا۔ ریورنڈ پاسٹر سیموئیل نواب نے انجیل مقدس کی آیات پڑھیں، سردار جسوندر سنگھ نے گروگرنتھ پڑھی جبکہ پنڈت امر ناتھ نے بھگوت گیتا سے اشلوک پڑھے۔

پروگرام میں پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور، پشاور اور سیہون شریف میں بے گناہوں کی شہادت پر ہر پاکستانی دکھی ہے۔ ہم دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور انسانیت کے دشمنوں کو مفاہمت اور مصلحتوں سے بالا ہوکر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مصلحتوں سے کام لیا جاتا رہا تو پھر خون کی ندیاں اسی طرح بہتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے قومی ایکشن پلان پر عمل کیا ہوتا تو دہشتگردی کا خاتمہ ممکن تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام محبت اور امن کا دین ہے کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں کو بھی اسلامی ریاست میں برابر کے حقوق دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے ان دشمنوں کی کوئی شہریت نہیں، یہ کرائے کے قاتل بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ان دہشتگردوں نے بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب سب کو نشانہ بنایا ہے۔ آج کی اس دعائیہ تقریب میں ہم گلشن اقبال پارک میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے مسیحی اور ہندو عوام سے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے پر افواج پاکستان مبارکباد کی مستحق ہیں تاہم سول حکومت کا انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے رویہ غیر سنجیدہ، افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فوج اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن کا مطالبہ بہت پہلے کیا تھا، اب بھی یہ آپریشن چاروں صوبوں میں بلا تفریق آخری دہشتگرد کے مارے جانے تک جاری رہنا چاہیے۔ مسیحی رہنماریورنڈ امجداور ریورنڈ فراز نے کہا کہ دہشتگردوں نے مسلم، مسیحی تمام مذاہب کے نمائندوں کو ٹارگٹ کر رکھاہے۔ قوم اتحاد اور بین المذاہب رواداری کی طاقت سے دہشتگردوں کو شکست دے گی۔ سیہون شریف میں دہشتگردی سے مسیحیوں کے دل بھی اسی طرح دکھے ہیں جس طرح مسلمانوں کے۔ انہوں نے منہاج القرآن انٹرفیتھ اور سہیل رضا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری بین المذاہب روادار ی کے فروغ اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے قابل فخر اور قابل تقلید کردار ادا کر رہے ہیں۔

سکھ رہنماء سردار بشن سنگھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے پر امن لوگوں کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ دنیا کے تمام مذاہب کے پیروکار امن کیلئے انفرادی اور اجتماعی کوشش کریں تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ہندو رہنماء پنڈت امر ناتھ رندھاوا اور ارون کمارنے کہا کہ لعل شہباز قلندر کا مزار تمام مذاہب کی عقیدتوں کا مزکز و محور ہے سانحہ سیہون شریف انسانیت کے خلاف بہت بڑی سازش ہے، کوئی ذی شعور انسان اس طرح کے سفاکانہ عمل کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ قیام امن کیلئے تمام مذاہب کے ماننے والے میدان عمل میں نکلیں، یہ کوششیں رنگ و نسل اور مذہب سے ماورا ہو کر انسانیت کو بچانے کیلئے کرنا ہو نگی۔

ڈائریکٹر انٹرفیتھ ریلیشنز سہیل احمد رضا نے کہا کہ ہم سیہون شریف میں امن کی درگاہ پر دہشتگردی کا نشانہ بننے والے مسلم اور ہندووں کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ لاہور کینٹ سانحہ میں دہشتگردی کا شکار ہونیوالے مسیحی پاسٹر کے لواحقین کے ساتھ بھی اظہار افسوس کرتے ہیں۔ جو ریاست مذہبی اقلیتوں کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ ایک اسلامی جمہوری ریاست نہیں کہلا سکتی۔

آخر میں تمام رہنماوں نے وطن عزیز میں امن کے فروغ کے لیے شمعیں روشن کر کے دہشتگرد ی کے زخم خوردہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔

تبصرہ